in

تقریبآ نوے کے دہائی کے آخر تک ڈاٹسن سواریوں کے آمدورفت کے لئے اپنے عروج پر تھا۔ …

تقریبآ نوے کے دہائی کے آخر تک ڈاٹسن سواریوں کے آمدورفت کے لئے اپنے عروج پر تھا۔ ڈاٹسن کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا جہاز کے بزنس کلاس سیٹ پر بیٹھنے سے کم نہ تھا اور مزے کی بات یہ تھی کہ فرنٹ سیٹ بھی ڈرائیور یا کنڈیکٹر کے ساتھ خصوصی تعلقات کے صدقہ نصیب والوں کو ملتا تھا فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا فخر رُعب دو تین گھنٹے تک برقرار رہتا تھا۔ ڈرائیور جانا پہچانا اور ہر دل عزیز شخصیت ہوتا تھا ہر کوئی فرنٹ سیٹ کے لالچ میں ڈرائیور کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم رکھنے کا خواہشمند رہتا تھا صرف ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے منظور نظر افراد کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا نصیب ہوتا تھا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے والا باہر ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں سلام کے بہانے اپنی موجودگی کا احساس دلایا کرتا تھا ہر عروج کو زوال ہوتا ہے ڈرائیور اور ڈاٹسن کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔۔!! لیکن ڈاٹسن کے ساتھ بہت سنہری یادیں وابسطہ ہیں۔


What do you think?

113 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments