in

#مری_بائیکاٹ ۔۔۔ مری کے مقامی دوست اس بائیکاٹ مہم پر سیخ پا ہیں اور بعض جذباتی…

#مری_بائیکاٹ
۔۔۔
مری کے مقامی دوست اس بائیکاٹ مہم پر سیخ پا ہیں اور بعض جذباتی دوست اسے تعصب اور قوم پرستی کے عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔
مری بائیکاٹ کا مطلب مری کے مقامی لوگوں کا سماجی بائیکاٹ ہرگز نہیں۔ مری کے اصل باشندے بہت اچھے لوگ ہیں۔ ان کا پس منظر بھی گاؤں دیہات کا ہے۔ اخلاص محبت اور مہمان نوازی ان کی بھی روایات میں شامل ہیں۔
بائیکاٹ ان حریص بد تمیز اور بد تہذیب سرمایہ داروں کا ہے جو ملک کے کونے کونے سے مری میں اکھٹے ہوکر ہر قسم کاروبار پر قابض ہوگئے ہیں اور سیاحوں کو سونے کے انڈے دینے والی مرغی سمجھ کر دونوں ہاتھوں سے نہ صرف لوٹ رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتے ہیں۔ اب ان بد تمیز کاروباری افراد میں ہر قوم اور ہر شہر کے لوگ موجود ہیں۔ لہذا مری کے دوست اس کو اپنے اوپر لے کر ناراض مت ہوں۔
مری کے باشندوں کا البتہ قصور یہ ہے کہ انہوں نے ان کاروباری افراد کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ اس کے برعکس کالام میں بھی گرمیوں میں ہر شہر سے لوگ آکر کاروبار کرتے ہیں لیکن فائنل اتھارٹی مقامی باشندوں کے پاس ہے اور وہ غیر مقامیوں پر اپنی شاندار روایات کے مطابق چیک اینڈ بیلنس رکھتے ہیں۔
مری کی انتظامیہ نے مال روڈ پر سیاحوں کے بیٹھنے کے لیے بینچ بنائے ہیں۔ ایک ہوٹل مالک نے اس پر بڑے بڑے کیل ٹھونک دئے تاکہ سیاح اندر ہوٹل میں آکر بیٹھے۔ جب آپ اندر بیٹھ جائیں گے فورا بیرہ آرڈر لینے اجائے گا۔ اگر آپ کہیں کہ بس دو منٹ سانس لینے کے لئے بیٹھا ہوں تو وہ بولے گا جگہ خالی کرو۔ فضول بیٹھنے کی جگہ نہیں۔ اب یہ معاملہ کیا مقامی باشندوں اور انتظامیہ کو نظر نہیں آتا؟

اس کے برعکس کالام میں آپ کہیں بھی جاکر صبح سے لیکر شام تک بیٹھ جائیں کوئی آپ کو یہ نہیں بولے گا کہ جگہ خالی کرو۔ کراچی میں تو ہم ایک ہوٹل میں بیٹھ کر اسی کے ٹیبل مین سے کہتے ہیں جاکر ساتھ والے ہوٹل سے فلاں چیز لے آؤ اور وہ بخوشی لے آتے ہیں۔

مری میں سیاح کو لاری اڈے کی فیلنگ آتی ہے۔ ہوٹلز اور ریسٹورنٹ والے آپ کو زبردستی پکڑ پکڑ کر اپنی جانب کھینچ رہے ہوتے ہیں۔ کالام کے ہوٹل والے اس عمل کو نہ صرف سیاحوں بلکہ اپنی بھی توہین سمجھتے ہیں۔ سیاح کی مرضی وہ جس ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں جاکر بیٹھ جائے۔
مری والے آپ کو فوراسٹار ہوٹل کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں اور پھر تھرڈ کلاس کمرہ دے کر کرایہ فور اسٹار کا لیتے ہیں۔ آپ شکایت یا احتجاج کریں گے تو پھر پٹائی ہوگی چاہے آپ کے ساتھ خواتین کیوں نہ ہو۔ کالام میں دونمبری کا آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہوٹل دکھاکر ریٹ بتائیں گے۔ آپ کو پسند ہے تو ٹھہر جائیں ورنہ وہ آپ کو خود گائیڈ کرکے کسی دوسرے ہوٹل میں بھیج دیں گے۔
مری میں آپ جس ہوٹل میں ٹھہرے یا جس گاڑی میں سفر کریں وہ آپ کا پیسہ باپ کا مال سمجھ کر اڑا رہا ہوتا ہے۔ کالام میں آپ جس ہوٹل میں قیام کریں جس گاڑی میں سفر کریں آپ اس کے حقیقی طور پر مہمان ہیں۔ وہ آپ کو مخلصانہ مشورے اور مکمل رہنمائی بھی فراہم کریں گے۔ دوسری جگہوں پر آپ کی سفارش بھی کریں گے اور اس میں کمیشن اپنی توہین سمجھتے ہیں جبکہ مری میں سارے کمیشن ایجنٹ گھوم رہے ہیں۔ کہیں آپ چائے پینے کے لئے بھی رکیں تو اس میں بھی مقامی ڈرائیور کمیشن بٹور رہا ہوگا اور ہوٹل والا وہ کمیشن سیاحوں سے پورا کرے گا۔
کالام کو بار بار اس لئے پیٹ رہا ہوں کہ میرا اپنا علاقہ ہے۔ سب میری نظروں کے سامنے ہوتا ہے۔ اگر پھر بھی زندگی میں کوئی ناخوشگوار تجربہ ہوجائے آپ اسی وقت مجھے شکایت کریں۔ اس کا ازالہ نہ ہوا تو میرا گریبان پکڑ لیجئے گا۔
اور میں مکرر عرض کر رہا ہوں کہ میرا کالام میں ذاتی سپر اسٹور بھی نہیں۔ آپ کالام جائیں یا مری مجھے فایدہ ہے نہ نقصان۔ البتہ آپ کی رہنمائی میرا انسانی فرض ہے۔
تحریر:نور الہدیٰ شاہین۔
#BoycottMurree #TravelSwat #Kalam


What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply
  1. آپکی سب باتیں درست ہیں مری میں چند سال پہلے جو لوگ بروکر تھے اب وہی ہوٹل مالک بنے بیٹھے ہیں۔ میں 1987 سے مری اور شمالی علاقہ جات کی سیر کر رھا ھوں چند روز قبل مری گیا تھا واقعی اب بد تمیزی ھو گئی ھے چند لوگ اچھے ملتے ہیں اور مہنگائی کا جن بھی بے قابو ھو گیا ھے۔

  2. کالام کے بارے میں میرا ذاتی تجربہ ہے نہ صرف لوگ نہایت خوش اخلاق ہیں ہوٹل کی انتظامیہ بھی کا تجربہ بھی شاندار رہا ہم چونکہ کراچی سے گئے تھے ہمیں خوش آمدید کہا گیا اور خصوصی رعایت بھی دی گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments