in

By ABDUHU MUHAMMAD نانگاپربت پر کیا ہوا تھا۔ الزبتھ ریول اور ٹومک میکسوچ کی کہان…

By ABDUHU MUHAMMAD
نانگاپربت پر کیا ہوا تھا۔ الزبتھ ریول اور ٹومک میکسوچ کی کہانی۔
رپورٹ۔ عبدہ
رپورٹ میں ریول کے دو اخباری اور ایک ٹی وی انٹریو کے اقتباسات شامل ہیں۔ جس پر فرنچ اور پولش زبان میں تبصرے کیے گئے ہیں۔ الزبتھ کے اپنے الفاظ ہیں۔ کہیں انٹرویو لینے والے فرنچ صحافی اور پولش ترجمہ کرنے والے تبصرہ نگار کی باتیں ہیں۔ آپ الزبتھ کا انٹرویو اور تبصرہ نگاروں کی باتیں ایک ساتھ پڑھیں گے۔ پوری رپورٹ انتہائی احتیاط سے تیار کی گئی ہے۔ اور اس میں پولش فرنچ سپینش اور انگریزی سے تراجم شامل ہیں۔
ریول کا نانگاپربت سر کرنے کا کارنامہ سردیوں میں کسی عورت کی طرف سے پہلا کارنامہ ہے۔ جب وہ بنا کسی پورٹر کی مدد اور آکسیجن کے نانگاپربت کے اوپر پہنچی۔ یہ نانگاپربت پر سردیوں میں چوتھی مہم جوئی تھی جبکہ ٹومک میکسوچ کی طرف سے مجموعی طور پر ساتویں کوشش تھی۔
الزبتھ ریول ایک انٹرویو میں بتاتی ہیں میں اور ٹومک میکسوچ چوٹی پر پہنچنے سے پہلے بہت بہتر محسوس کررہے تھے۔ ہم شام 5:15 پر چوٹی پر پہنچے۔ کوہ پیمائی کے حساب سے یہ بہت دیر تھی۔ لیکن ہم جیت گئے تھے اور بہت خوش تھے۔ لیکن یہ خوشی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ چوٹی پر میکسوچ کی صحت میں تھوڑا سا مسئلہ پیدا ہوا۔ اور ہم دونوں نے آہستگی سے نیچے اترنا شروع کردیا۔ اور اترنے میں ہم ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔ چوٹی پر میکسوچ کی صحت میں جو مسئلہ ہوا تھا اس کی وجہ سے اسے سانس لینے میں مشکل پیدا ہونے لگی اور ٹومک نے مجھے بتایا کہ مجھے کچھ نظر نہیں آرہا۔ کیونکہ دن اور رات کے دوران چمک بہت زیادہ رہی تھی۔ اس نے اپنے چہرے سے حفاظتی کپڑے اتارے اور تازہ ہوا میں سانس لینا شروع کردیا۔ اسکی ناک اور ہاتھ بالکل سفید ہوچکے تھے۔ ہوا بہت تیز تھی۔ ہم اترتے رہے۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ اپنے کیمپ تک بھی پہنچ پائے۔ کچھ نیچے آکر ہم نے ایک جگہ رات گزاری۔
صبح سورج نکلنے پر صورتحال ڈرامائی شکل اختیار کرچکی تھی۔ ٹومک کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ اس کے منہ سے مسلسل خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔ اسے اوڈیما تھا۔ اور اس کے چہرے پر عام سوجن کی علامات تھیں۔ اور یہ بلندی پر ہونے والی بیماری کی آخری سٹیج تھی۔ اس بیماری کا ایک ہی حل تھا جلدازجلد نیچے جاکر علاج کروانا۔
ریول کہتی ہیں میں نے سب کو پیغامات بھیجنے شروع کردئیے کہ ہمیں مسئلہ ہوگیا ہے۔ ہم مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ کیونکہ ٹومک اکیلا نیچے جانے کے قابل نہیں تھا۔
مجھے بتایا گیا اگر تم 6000 میٹر تک آجاؤ تو ہم تمھیں بچا لیں گے۔ اور ٹومک کو 7200 میٹر پر ہیلی سے بچانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ اور پھر میں نے میکسوچ کو بتایا کہ تم مدد حاصل کرنے کے قابل ہوجاؤ گے۔ ہیلی تک خود جانا ہوگا اگر ہیلی 7200 میٹر تک آسکتا ہے۔ اور کون مدد دے گا۔ نیچے کوئی نہیں ہے۔ جو نیچے پاکستانی ہیں وہ ریسکیو کرنے والے نہیں ہیں۔
فون پر رابطے ہورہے تھے اور کسی نے بتایا کہ میکسوچ کو وہیں چھوڑ دو۔ لیکن ایسا کس نے کہا یہ ریول نے نہیں بتایا۔ (تبصرہ نگار کے مطابق اس انٹرویو میں بہت ساری باتیں غائب ہیں۔ اور معلومات کی کمی ہے لیکن میں اس کی معلومات اور کردار پر شک نہیں کررہا۔ ہمیں ریول پر اعتماد کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ریول کی کہانی میں بہت سی باتیں غائب ہیں۔ لیکن شائد یہ غلط فرنچ ترجمے کی وجہ سے ہو)۔
دونوں اچھی طرح بلندی کے عادی Acclimatize نہیں ہوئے تھے اور ان کے پاس بہت کم آکسیجن تھی۔ اس لئے حادثوں کے امکانات پہلے سے موجود تھے۔ اور مجھے خود اس کا تجربہ ہوچکا تھا جب میں ایک بار چویو پر 8100 میٹر کی بلندی سے نئے راستے سے نیچے اتر رہا تھا۔ منفی بیس درجہ حرارت میں میرے ناک سے نزلہ کی ندی بہہ رہی تھی۔ اور میں نے سوچا تھا نانگاپربت مہم کو زیادہ اچھے طریقے سے تیار کیا جائے گا۔
ریول کہتی ہے۔ پھر میں نے ٹومک کو بتایا۔ سنو! میں مدد لینے نیچے جارہی ہوں۔ اور شام تک ہیلی آکر تمھیں اٹھا لے جائے گا۔ (ریول پہلی بار ہمالیہ پر نہیں تھی۔ اس سے پہلے وہ مناسلو پر سردیوں میں ہی جاچکی تھی)۔
اور ریول ٹومک کو چھوڑ کر نیچے آگئی۔ کیونکہ ہیلی آرہا تھا۔ لیکن وہ نا آیا۔ میرے پاس ٹینٹ نہیں تھا۔ اور سامان کے بغیر دوسری رات تھی۔ میں سردی سے کانپ رہی تھی۔ لیکن میں اپنے حواس میں تھی کیونکہ مجھے ٹومک کی پریشانی تھی جوکہ بہت کمزور ہوچکا تھا۔ اور میرے پاؤں میں فراسٹ بائٹ ہوئے بھی 5 گھنٹے گزر چکے تھے۔
اگلے دن ریول نے نیچے جانا شروع کیا تو اس نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی لیکن پہلے ہی بہت دیر ہوچکی تھی۔ ہوا بھی بہت تیز تھی۔ اور بڑھتی جارہی تھی۔ تب اسے بتایا گیا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کل آئے گا۔ اور اسے تیسری رات بھی برف پر ہی گزارنی ہوگی۔ تب اس نے نیچے جانے کا فیصلہ کیا۔ اب اسے اپنی زندگی بچانے کا معاملہ درپیش تھا۔
خون جما دینے والی سردی گیلے دستانے ہاتھ اور پاؤں میں سخت درد تھی جب وہ ایک رسی کی مدد سے صبح 3:30 بجے کیمپ ٹو پر پہنچی جوکہ 6300 میٹر پر تھا۔ مجھے دو ہیولے اوپر آتے نظر آئے جو ناقابل یقین رفتار سے میرے طرف دوڑتے آرہے تھے۔ انکی آواز میرے لئے زندگی کا پیغام تھی۔
ریول زور دے کر پرجوش انداز سے کہتی ہے۔ کےٹو ٹیم کے ڈینس یوروبکو اور ایڈم بیلیکی ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو مجھے 6000 سے 6100 میٹر کے درمیان میں ملے تھے۔ جبکہ جاروسلا بوتر اور پیوترتومالا نیچے راستے میں حفاظتی اقدامات تیار کرکے انتظار میں تھے۔
ٹومک میکسوچ 7200 میٹر کے پاس ہے۔ تباہ کن خراب موسم کے باعث ٹومک کی مدد جاری رکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ اسے کوہ پیمائی کہتے ہیں۔ اور کوہ پیمائی میں یہ انہونی نہیں ہے۔

نانگاپربت حادثے کے بعد ہی سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے کوہ پیماؤں کے تبصرے شروع ہوگئے تھے اور ریول کے انٹرویو کے بعد اس میں تیزی آگئی ہے۔
سپین سے ایک کوہ پیما کہتے ہیں۔ 7500 میٹر سے اوپر ہونے والی بیماری سے کون بچ کر آیا ہے۔ اگر کوئی ہے تو وہ لاکھوں میں ایک ہے۔ پاکستان کے پہاڑ دنیا کے مشکل ترین پہاڑ ہیں۔ اور قدرت کی طرف سے صرف بہادر اور نڈر کوہ پیماؤں کیلئے بنائے گئے ہیں۔
ایک اور کوہ پیما کا کہنا ہے۔ ٹومک اپنے خواب کو پورا کرنے کے بعد بہادری سے مرا ہے۔ اور اس کیلے بہترین موت کا چناؤ ہوا ہے۔
اٹالین کوہ پیما کہتا ہے۔ کوہ پیمائی میں ایسا ہوجاتا ہے اور اکثر ہوتا ہے۔ یہ ہر کوہ پیما کے ذہن میں ہوتا ہے۔ اور تیاری کے دوران اسے مہم کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ حادثے کے بعد آپ نانگاپربت سے بچ کر آجائیں۔ اور وہ بھی سردیوں میں۔ اگر ایسا ہوچکا ہے تو آپ دعوی سے کہہ سکتے ہیں میں دنیا کا خوش قسمت انسان ہوں اور اگر کوئی نہیں بچ سکا تو اسکے بارے کہہ سکتے ہیں وہ دنیا کی سب سے بڑی مصیبت کا شکار تھا۔
ایک اور کوہ پیما کہتا ہے۔ یہ تصور افسردہ کررہا ہے کہ ٹومک بچ نہیں سکا۔ لیکن ان حالات میں بچانا ناممکن ہوتا ہے اور خود بچنا ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک چلا گیا بلکہ اہم یہ ہے کہ ایک کو بچا لیا گیا۔ میں جانتا ہوں ان حالات میں سب کو نہیں بچا سکتے۔ کم سے کم جانی نقصان خوش قسمتی ہوتی ہے۔
پولینڈ سے تبصرہ ہوا ہے۔ حادثہ کہاں ہوا ہے ؟ نانگاپربت یعنی کلر ماؤنٹین پر یعنی مارنے والے پہاڑ پر۔ پھر بات کیسی۔ حیرانگی تو یہ ہے کہ کوئی بچ کر آگئی ہے۔
ایک تبصرہ نگار نے کہا ہے۔ بدقسمت ٹومک ایسی جگہ حادثے کا شکار ہے جس جگہ کے قریب تو کیا دور دور تک کوئی بچانے والا ہی نہیں تھا۔ اور جب حادثہ نانگاپربت پر ہو اور بچانے والے کےٹو سے لائے جانے ہوں تو پھر انسانی زرائع سے زیادہ قسمت اور قدرت کا کھیل ہوتا ہے۔
پولینڈ سے اس پورے واقعے پر رپورٹنگ کرنے والے نے لکھا ہے کہ عسکری ایوی ایشن کے ریسکیو قواعد و ضوابط پڑھے اور جانے بغیر بےبنیاد پراپیگنڈہ مہم جاری کردی گئی ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے سے وابستہ ایک عہدیدار کا کہنا ہے۔ عسکری ایوی ایشن نے ماضی کی طرح ایک بار پھر نانگاپربت پر ریسکیو کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ اور دو پولش کوہ پیماؤں کے ساتھ اس خاموش ہیرو کو یاد رکھیے جو سامنے نہیں آیا۔ وہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ جہانزیب قاضی تھا۔


What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments