in

درال جھیل: خوبصورتی اور دیومالائی کہانیوں کا سنگم وادیء کاغان کی جھیل سیف الملو

درال جھیل: خوبصورتی اور دیومالائی کہانیوں کا سنگم

وادیء کاغان کی جھیل سیف الملوک کے بارے میں کئی افسانوی کہانیاں مشہور ہیں۔

کہتے ہیں کہ چاندنی رات میں جھیل سیف الملوک پر پریاں اترتی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود پریوں کو دیکھا ہے۔ اسی طرح سے گلگت بلتستان کے بتورا گلیشیئر کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ وہاں پر راج ہنس اترتے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ ان کہانیوں میں کوئی سچائی ہے یا نہیں، لیکن یہ جگہیں اتنی خوبصورت ضرور ہیں کہ یہاں اگر چاندنی رات گزار لی جائے، تو انسان واقعی دنیا سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔

ایسی ہی ایک جگہ جھیل 'درال' ہے جو خیبر پختونخواہ کی خوبصورت وادیء سوات میں سطحِ سمندر سے گیارہ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

درال جھیل، سیدگئی جھیل کے شمال مشرقی طرف واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی گیارہ ہزار پانچ سو پچاس فٹ ہے۔ درال دراصل شولگرہ اور سیدگئی جھیل کے درمیان واقع ہے۔

ٹریکنگ کا تجربہ رکھنے والے دو دنوں میں باآسانی مذکورہ تینوں جھیلوں کا نظارہ کرسکتے ہیں۔ فلک بوس پہاڑوں کے درمیان چھپی اس جھیل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کئی راستے ہیں۔ ایک راستہ مدین، بحرین کے پہاڑوں کے درمیان سے ہوتا ہوا جھیل تک پہنچتا ہے۔ مقامی لوگ اسے نسبتاً مشکل تصور کرتے ہیں۔

دوسرا راستہ تحصیل مٹہ سے ہوتا ہوا مانڈل ڈاگ اور سلاتنڑ کے پہاڑوں کے درمیان سیدگئی جھیل سے آگے درال تک پہنچتا ہے۔ اس طرح تیسرے اور نسبتاً آسان راستے کے لیے وادیء لالکو تک فور بائے فور جیپ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔

لالکو سے درال تک پہنچنے کے لیے بھی دو راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ بالفاظِ دیگر سیاحوں کی اپنی مرضی ہے کہ وہ سیدھا درال جھیل تک جلد از جلد پہنچنا چاہتے ہیں یا پھر وہ قدرت کے نظاروں سے لطف اٹھانے کے لیے وادیء لالکو کی سب سے خوبصورت جگہ گبین جبہ کی سیر کرنا چاہتے ہیں؟

لالکو کے اڈے میں گاڑی سے اترنے کے بعد پچیس تیس منٹ کی پیدل مسافت پر فلک بوس پہاڑوں کے درمیان ایک اچھی خاصی ٹریک جھیل تک رسائی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کو بجا طور پر پہلا راستہ کہا جاسکتا ہے۔ اس مقام کو ’کاڑ خوڑ‘ کہتے ہیں۔ ’کاڑ‘ اس بجری یا چھوٹے بڑے پتھروں کی اچھی خاصی مقدار کو کہتے ہیں جو سیلابی ریلے میں پہاڑوں سے بہہ کر زمینی علاقوں تک پہنچتی ہے جبکہ ’خوڑ‘ کے لیے اردو میں لفظ ’ندی‘ مستعمل ہے۔

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے سرسبز و شاداب وادیء لالکو کے درہ کاڑ خوڑ تک ستاون اٹھاون کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس میں ستر پچھتر فی صد سڑک کی حالت تسلی بخش ہے۔

کاڑ خوڑ سے آگے گھنے جنگلات اور ہرے بھرے مرغزاروں کی سرزمین گبین جبہ یا گبینہ جبہ کا آغاز ہوتا ہے۔ شہد کو پشتو زبان میں گبین یا گبینہ کہتے ہیں جبکہ وہ مقام جہاں زمین دلدل نما ہو، اس کو پشتو میں جبہ کہتے ہیں۔

گبین جبہ میں بڑی بڑی چراہ گاہیں ہیں جہاں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے سیاحوں نے خیمے لگائے ہوئے ہوتے ہیں اور ہر طرف سے روایتی ساز رباب منگے کی مسحور کن موسیقی کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے۔ من چلے ڈھولک کی تاپ پر رقص اور بنگڑے ڈال کر رہی سہی کسر پورا کر دیتے ہیں۔

جولائی کے مہینے میں جہاں ملک کے دیگر علاقوں میں جھلسا دینے والی گرمی اور حبس زدہ ماحول ہوتا ہے، وہاں گبین جبہ میں سیاح دن کو سوئیٹر یا جیکٹ وغیرہ پہنے اور سرِ شام اونی چادر اوڑھے دیکھے جاسکتے ہیں۔

سیاحوں کی زیادہ تعداد میں آمد نے جہاں اس علاقے کو شہرت سے ہمکنار کیا ہے، وہاں اس کے حسن کو ماند کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، کیونکہ سیاح جتنی کثرت سے یہاں کا رُخ کرتے ہیں، اتنا زیادہ گند بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ بڑی تعداد میں پلاسٹک بیگ اور کاغذ کے تھیلے جا بجا بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔

گبینہ جبہ سے تقریباً بیس پچیس منٹ کی مسافت پر ’چڑو بانڈہ‘ کے مقام پر چرواہوں کے دو تین گارے مٹی اور پتھروں کے تعمیر شدہ کوٹھے ملتے ہیں جن میں رات باآسانی گزاری جاسکتی ہے۔ کیمپنگ کا شوق رکھنے والوں کے لیے اس مقام پر ایک چھوٹا سا مرغزار ہے جہاں بھیڑ بکریاں بھی چرتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہاں سے آگے درال جھیل کا سفر شروع ہوتا ہے۔ وادیء لالکو میں درال جھیل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسے بجا طور پر دوسرا راستہ کہا جاسکتا ہے۔

ٹریکنگ کے عادی مسلسل چھ تا سات گھنٹوں میں چڑو بانڈہ کی فلک بوس پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ سکتے ہیں۔ مذکورہ پہاڑ میں ہر پندرہ بیس منٹ کی پیدل مسافت پر میٹھے پانی کے جھرنے ملتے ہیں۔ چوٹی تک پہنچنے سے کوئی بیس پچیس منٹ پہلے پانی نایاب ہوجاتا ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اپنے ساتھ پانی کی بوتل احتیاطاً ساتھ لے لی جائے۔

چوٹی سے تقریباً آدھے گھنٹے کی اترائی کے بعد جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے۔ پہلی نظر میں جھیل پر ایک ایسے عقاب کا گمان ہوتا ہے جو ہوا میں پر پھیلائے اپنے لیے کسی شکار میں کی تلاش میں ہو۔ وہاں سے مزید آدھا گھنٹہ دشوار گزار راستے سے اترائی کے بعد جھیل کی سطح تک پہنچا جاسکتا ہے۔

جھیل کے ایک مخصوص مقام سے اگر درمیانی چال چلتے ہوئے گھومنا شروع کیا جائے، تو یہ اتنی وسیع ہے کہ واپس اس مقام تک پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔

درال جھیل۔
وات کی بیشتر جھیلوں کے حوالے سے کہانیاں مشہور ہیں جن میں سیاح کافی دلچسپی لیتے ہیں۔ جیسے کنڈول جھیل کے متعلق کہانی مشہور ہے کہ رات کو اس کے بیچ میں سے ایک سونے کا ایک پیالہ نکلتا ہے۔

درال جھیل کے حوالے سے بھی ایسی ہی دو الگ الگ فرضی کہانیاں مشہور ہیں۔ چڑو بانڈہ کا چودہ سالہ اصیل زادہ کہانیاں کچھ یوں بیان کرتا ہے: ’’ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ چودھویں رات کو عین جھیل کے وسط سے ایک گھوڑا ہنہناتا ہوا نمودار ہوتا ہے اور کچھ دیر کے بعد واپس جھیل کے پانی میں غوطہ لگا کر ڈوب جاتا ہے۔ ہمارے بڑوں نے اسے دیکھا ہے۔ ان بڑوں میں سے کسی ایک سے میں نے یہ کہانی سنی ہے۔ دوسری کہانی میں رات کو جھیل سے ایک تلوار اور ڈھال کے نکلنے کا حوالہ مشہور ہے۔‘‘

گرچہ درال جھیل میں ہر طرف سے پگھلتے ہوئے گلیشئرکا یخ پانی شامل ہوتا ہے مگر جھیل کے پانی میں ہاتھ ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ غیر متوقع طور پر گرم ہے۔

عموماً درال جھیل کی سیر کے لیے ماہِ جولائی کے اوائل سے ستمبر کے اواخر تک کا دورانیہ موزوں ترین ہے۔ اگر آپ ان گرمیوں میں کہیں گھومنے جانا چاہتے ہیں تو درال کو اپنی فہرست میں سب سے اوپر رکھیں۔






Written by Swat Valley

What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

0

Comments

comments

Spinkhwar Lake Spinkhwar Abshar Utror valley Kalam Swat Pakistan

Daral lake swat