in

جس نے بھی اس وادی کا نام رکھا ہے اس نے ضرور اس وادی کی خوبصورتی کومدنظررکھ کر …

جس نے بھی اس وادی کا نام رکھا ہے اس نے ضرور اس وادی کی خوبصورتی کومدنظررکھ کر رکھا ہوگا ۔ شاہی باغ سوات واقعی میں ایک شاہی باغ ہے بلکہ ایک شاہی باغ سے بھی بڑھ کر خوبصورت ہے۔۔ یہ وادی انگنت چشموں، بلند آبشاروں، نیلگوں جھیلوں، بڑے گلیشیروں، انوکھےدرختوں خوبصورت پھولوں کی وادی ہے۔ شاہی باغ کے راستے کے دونوں اطراف پراُنچے اُنچےدرختوں سے ڈھکے برف پوش پہاڑ ہیں اوربائیں طرف تیز شورمچاتا ہوا دریا بہتا ہے جو کہ مشروم جھیل جیسےکئی اوربڑی اورخوبصورت جھیلوں، ابشاروں، چشموں اوربڑے بڑے گلیشیرزسے نکلنے والے پانی کا مجموعہ ہے ۔
یہ مئی 2017 کی بات ہے کہ مجھے دوسری مرتبہ شاہی باغ سوات جانے کا شرف نصیب ہوا۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارا ایک بہت ہی عزیز دوست شفیق لالسلام کئی مہینوں سے کسی ٹریک پے جانے کا کہہ رہے تھے لیکن دوستوں کی مصروفیات کی وجہ سے پروگرام فائنل نہیں ھو رہا تھا۔بلآخر 18مئ 2017 کو ہم چار دوستوںشفیق ، ضیااللہ خان، مراد علی اور میرا پروگرام شاہی باغ سوات کو جانے کیلئےپروگرام فائنل ھو گیا۔
18 مئ کو میں نوشہرہ سے سوات کو روانہ ہوا اورپہلے سے طے شدہ پلاننگ کے مطابق کوٹہ سوات میں ضیااللہ کے کو پک کرنے کیلئے اتر گیا۔ رات ک ۱۰ بجے وہاں سے اتروڑ کیلئے ٹیکسی پکڑی اور مینگورہ سے شفیق لاسلام اورمراد علی کو پک کرنے کیلئے روانہ ہو گئے۔ چونکہ رات کافی ھو چکی تھی اسلیئے فیصلہ ھوا کہ صبح سویرے نکلا جائے۔ رات کا کھانا شفیق لاسلام بھائی کے ہاں کھانے کے بعد وہی قیام کیا اوراُنیسں تاریخ کی صبح کو نماز پڑھنے کےبعد سامان گاڑی میں ڈالا، راستے میں مراد علی کو پک کیا اور اتروڑ کی طرف روانہ ہوئے۔
صبح کا ناشتہ بحرین میں کیا۔ گپیں مارتے، نظاروں کا مزہ اور تصاویر لیتے ھوئےدوپہردوبجےاتروڑ پہنچے وہاں بازار میں دوپہر کا کھانا کھایا۔ کھانا کھانے کے بعدشاہی باغ پیدل جانے کیلئے اپنے گائیڈ عبدالحمید(آف گلپرک، اتروڑ) کا انتظار کرنے لگے۔
گائیڈ کیساتھ پہلے ہی سے بات ہو گئی تھی کہ ہم فلاں دن آیئنگے لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ اسی دن ٹریکینگ پر بھی روانہ ہونگے۔ شام 5:30 بجے گائیڈ اپنے کھیتوں میں کام ختم کرنے کے بعد آیا اسی وقت ہم سب گاڑی میں بیٹھ کر گبرال روانہ ہوئےاورگبرال پہنچ کر وہی گاڑی پارک کی۔ گاڑی سے کیمرے اور ضرورت کا سامان لے کرشام چھ بجے بمعہ گاڑی کے ڈرائیور کے شاہی باغ کی طرف پیدل روانہ ہو گئے۔ شاہی باغ جانے کیلئے اتروڑ اور گبرال سے انتہائی مناسب قیمت پرفور بائی فور گاڑی بھی مل جاتی ہے۔ باوجود اسکے کہ شفیق لاسلام بھائی کوکمر کی تکلیف تھی لیکن اُسکی مرضی سے ہم سب نے پہلے ہی سے طے کیا تھا کہ ہم پیدل جایئنگے تاکہ کسی نظارے کی عکس بندی کو مس نہ کرسکیں۔ شاہی باغ اتروڑ سے تقریبا 14 اور کالام سے 38 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے-کالام سے شاہی باغ ایک دن میں آنا اور واپس جانا ممکن ہے بشرطیکہ فور بائی فور گاڑی ساتھ ہو اور صبح سویرے نکلا جائے۔
گبرال سے شاہی باغ کا راستہ انتہائی خوبصورت ہے ۔ خیرایک گھنٹہ چلنے کے بعد رات کا اندھیرہ چھانے لگا، اندھیرے میں آہستہ آہستہ سفر کرتے ہوئے ہم تقربعاََ رات کے گیارہ بجے شاہی باغ پہنچے۔ ہم سب کافی تھکے ہوئے تھے اسلئے گائیڈ اور مراد علی کے علاوہ سب نے اپنا اپنا بسترہ نکالا اور آرام کرنے لگے، کیونکہ وہ دونوں آلو چاول پکانے میں مصروف ہو گئے تھے۔ مراد علی فوٹوگرافر کیساتھ ساتھ ایک اچھااورایکٹیو ٹریکر بھی ہے۔ وہ سفر کے دوران اپنے سامان کے علاوہ مشترکہ سامان بھی اٹھاکے لایا تھا اور باوجود تھکان کےبغیر کسی سے پوچھے اپنی مرضی سے کھانا پکانے لگ گیا تھا ۔ مزیدار کھانا کھانے اورچائے پینے کے بعد رات کےساڑھے بارہ بجے سب نیند کی آغوش میں چلے گئے۔
تھکاوٹ کی وجہ سے صبح سات بجے آنکھ کھلی۔ یہ مئ کی بیس تاریخ تھی۔ آٹھ بجے تک سب نے ناشتہ کیا اور سامان پیک کر نے کے بعد سب شاہی باغ کے مین میڈوکی طرف روانہ ہو گئے۔ شاہی باغ کی چراہ گاہ بہت ہی خوبصورت ہے، ارد گرد نیلا، خاموشی سے بہتا ہوا دریا کاپانی اور خوبصورت چشمے ہیں جبکہ درمیان میں سرسبزوشاداب مختلف قسم کے پھولوں اور عجیب جسامت کے درختوں پر مشتمل ایک وسیع میدان۔ میدان میں گائیڈ کی نگرانی میں سامان رکھا، سب نے اپنے اپنے کیمرے اُٹھائے اورفوٹووویڈیو گرافی میں مشغول ہو گئے۔ تقربعاَ چار گھنٹےارد گرد کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے اور فوٹوگرافی کرنے کے بعد کھانا کھایا اور دو بجے گبرال کی طرف پیدل واپسی کی۔ واپسی پر بھی شاہی باغ سے گبرال تک سب دوستوں نے خوب فوٹو اور ویڈیو گرافی کی۔
شام چھ بجے اتروڑ پہنچے، وہاں پر گائیڈ کو اُتارا اور کالام کی طرف روانہ ہوئے۔ رات کا کھانا کالام میں کھانے کے بعد واپسی کاسفر اختیار کیا۔ اور21 مئ کو صبح تقربعاََ چار بجے سب اپنے اپنے گھروں کو با خیریت پہنچ گئے۔
نوٹ: شاہی باغ میں کوئی ہوٹل یا ریسٹورینٹ نہیں ہے، لہذا جو بھی شاہی باغ جانا چاہے وہ اپنے ساتھ کھانے کا سامان ضرور ساتھ لے کر جائے۔ اور اگر رات گزارنے کا ارادہ ہو تو ٹینٹ اور سلیپنگ بیگ بھی ساتھ لے کر جائیں۔
Special Thanks to : Tauseef Shah






What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments