in

Photos & Caption : Hussain Ali (Admin) تقریباً دو دھائیاں پہلے کی بات ہے گاؤں ک…

Photos & Caption : Hussain Ali (Admin)

تقریباً دو دھائیاں پہلے کی بات ہے گاؤں کوکارئی کے بائیں جانب پہاڑی کے دامن میں چند گھروں پر مشتمل ایک خوشحال بستی آباد تھی۔ بستی کا نام کنگلئی بابا تھا۔ یہاں کے باشندوں کے آپس میں گہرے تعلقات کا ہر طرف چرچا تھا۔ لوگ ان کی آپس میں پیار و محبت کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ بستی میں ہر طرف ہریالی تھی۔ خوبصورت باغات تھے۔ لوگوں کا پیشہ باغبانی اور کھیتی باڑی تھا۔
کنگلئی بابا میں دو خاندان آباد تھے جن کی آپس میں رشتے ناتے ہوا کرتے تھے۔ ہر طرف امن و امان کی صورت حال تھی۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ اس بستی کو کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی اور پیار و محبت سے رہنے والے خونی رشتے خون کے پیاسے بن گئے۔ ایک معمولی واقعے نے ایک خونی کہانی کو جنم دیا۔ پیار و محبت نفرت میں بدل گئی اور دونوں خاندانوں کو مجبوراً بستی چھوڑنی پڑی۔ اب وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے تھے۔
ہُوا کچھ یوں کہ ان خاندانوں میں تفریح اور زندگی میں کچھ رنگینی پیدا کرنے کے لئے اکثر بیلوں کی لڑائی ہوا کرتی تھی۔ ایک میدان میں گاؤں والے جمع ہوجاتے اور دو ہٹھے کھٹے بیلوں کو لڑانے کے لیے میدان میں چھوڑ دیا جاتا۔ دونوں خاندان عارضی طور پر ایک دوسرے کے حریف بن جاتے اور اپنی بیلوں کی لڑائی سے لطف اندوز ہوتے۔ اس دوران خاصا ہلہ گلہ ہوتا۔ لوگوں کے لیے تفریح طبع کا سامان ہرجاتا۔ لڑائی کے اختتام پر دونوں فریق دوبارہ ایک ہوجاتے۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی یہی کچھ ہونا تھا اور ہوگیا مگر پیچھے ایک خونی داستان چھوڑ گیا۔ بیلوں کی لڑائی زوروں پر تھی۔ لوگوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ ایک طوفان بد تمیزی برپا تھا۔ بستی والوں کا ہلہ گلہ دیکھنے کے قابل تھا۔ کسی کو کیا پتہ تھا کہ ابھی کچھ لمحوں میں بیلوں کی یہ عارضی لڑائی انسانوں کی دائمی خونی لڑائی میں بدل جائے گی۔ بیلوں کی لڑائی زوروں پر تھی کہ اسی دوران دونوں فریق میں معمولی سی بات پر تکرار ہوگئی اور بات توتو میں میں سے شروع ہوکر پانچ چھ لوگوں کی اموات پر ختم ہوگئی۔ ایک فریق کے کسی آدمی نے اپنے جزبات پر قابو نہ پاتے ہوئے فریقِ مخالف کی بیل کو بندوق کی گولیوں سے چلنی کردیا۔ دوسرا فریق اب کب باز آنے والا تھا۔ دونوں طرف سے برابر گولیاں چلیں اور پانچ چھ آدمی موقع پر دم توڑ گئے۔ آباد بستی لمحوں میں ویران ہوگئی۔ دونوں کو اپنے بچاؤ کے لیے بستی چھوڑنی پڑی۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں سے یہ بستی ویران
پڑی رہی۔ کسی کا داخلہ بستی میں ممکن نہیں تھا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی تاک میں لگے رہتے۔ کوئی اجنبی اگر غلطی سے بستی میں داخل ہوجاتا تو اسے ڈرا دھمکا کر نکال دیا جاتا۔
بزرگوں کی کوششیں جاری رہیں کہ کسی طرح دونوں خاندانوں میں صلح صفائی کراکے دوبارہ اس بستی کو آباد کیا جاسکے۔ ان کی کاوشیں رنگ لائیں اور بیس سال بعد بستی پھر سے آباد ہوگئی۔
گزشتہ اتوار کو میں اپنے دوست ناصر علی کے ساتھ اوغز سر تک گیا۔ کانگلئی بابا بستی راستے میں آتی ہے۔ ان لوگوں کی روایتی مہمان نوازی اور خلوص دیکھ کر کسی کو بھی گماں نہیں ہوتا کہ کبھی یہاں خونی ڈرامہ کھیلا جا چکا ہے۔

اوغز سر ایک خوبصورت پہاڑی چوٹی ہے۔ بالکل ٹاپ پر پانچ چھ گھرانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ ٹاپ پر پہنچتے ہی بالکل سامنے گولے سر اور پٹے سر کا خوبصورت منظر آپ کو اپنے حصار میں لیتا ہے۔ دائیں ہاتھ پر لوئے سر اپنی بہاریں دکھاتا ہے۔ بائیں سمت کنگلئی بابا کی خوبصورت وادی کے ساتھ بنجوٹ کا علاقہ, شنگرئی اور شنگرئی سے بل کھاتی سڑک اوپر زرئی کی طرف جاتی نظر آتی ہے اور جب آپ پیچھے دیکھتے ہیں تو منگورہ شہر کا محصور کن منظر آپ کو اپنی حصار میں لے لیتا ہے۔ اوغز سر کے باشندے اپنا گاؤں چھوڑ کر میدانی علاقوں کی طرف جاچکے تھے۔ یہاں نہایت ہی پرسکون ماحول ہم کو ملا۔ ہم نے سکون کے چند لمحات گزار کر نہ چاہتے ہوئے بجھے دل کے ساتھ واپسی کی۔













What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments