in

تحریر و عکاسی: حسین علی ٹیم: ٹریکنگ سوات ویلی شیطان گوٹ جھیل کی کہانی میرے سام…

تحریر و عکاسی: حسین علی
ٹیم: ٹریکنگ سوات ویلی

شیطان گوٹ جھیل کی کہانی

میرے سامنے دھند میں لپٹا ہوا اور بادلوں میں چھپا ہوا ایک بے کراں سمندر تھا اور میں۔۔۔ ایک بھٹکا ہوا مسافر کہ جسے کسی پل چین نصیب نہیں ہوتا، راستہ بھول کر ادھر کو آیا ہوا تھا یا شاید لایا گیا تھا۔ وہ ایک لمحہ کہ جب مجھے شیطان گوٹ جھیل کی دیدار کرائی گئی، میں، مجھ میں نہیں رہا۔ یقیناً جھیل کی وہ پہلی جھلک مجھے دیوانہ کر گئی۔ ایسا ہی ایک محصور کن نظارہ تھا وہ۔
شیطان گوٹ جھیل 13,600 فٹ کی اونچائی پر وادی سوات کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ یہ جھیل بھی تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ لمبائی تقریباً تین کلومیٹر ہے۔ زیادہ اونچائی میں ہونے کی وجہ سے جھیل کے چاروں طرف خشک پتھریلے پہاڑ ہیں اور گلیشئیر ہیں۔ جھیل کے دوسرے کنارے تک پہنچتے پہنچتے ہمیں دو گھنٹے لگے۔ موسم دھندلایا ہوا تھا۔ بادل کے آوارہ ٹکڑے اِدھر اُدھر تیر رہے تھے اور جھیل کھبی بادلوں میں چھپ جاتی، کبھی ظاہر ہو جاتی اور جھیل کا پانی لمحہ بہ لمحہ اپنا رنگ بدلتا رہا۔ شیطان گوٹ جھیل کو میں نے کئی رنگیں بدلتے دیکھا۔
2016 میں کیدام بحرین کے Aftab Ahmad Angel آفتاب احمد اینجل بھائی نے شیطان گوٹ جا کر پہلی مرتبہ جب اس کی تصاویر سوشئیل میڈیا پر اپلوڈ کیں تو اس جھیل کی خوبصورتی نے سب کو دیوانہ کردیا۔ اس جھیل کو کھوجنے کا تمام سہرا آفتاب بھائی کے سر بندھتا ہے۔
پانچ بجنے والے تھے۔ ہم کافی حد تک تھک چکے تھے، مگر آپس میں صلاح مشورہ کر کے ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ روانہ ہوئے۔
جھیل کے اوپری پاس پر پہنچنے کا ایک ہی رستہ تھا اور رستہ کیا تھا ایک مکمل کھڑی دیوار تھی اور کافی بڑے پتھر تھے اور ساتھ ہی دو تیں چھوٹے چھوٹے گلیشیئرز تھے۔ ان گلیشیئرز کو پار کرتے ہوئے پیروں کی معمولی سی لغزش آپ کو سیدھا جھیل کے پانیوں میں پہنچا سکتی تھی۔ ہم نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اور کلمہ کا ورد کرتے ہوئے آگے کی طرف قدم بڑھا لیے۔ اور کوئی چارہ نہیں تھا ہمارے پاس۔ اس کھڑی دیوار کو آدھا ہم پار کر چکے تھے کہ اچانک تیز بارش شروع ہوئی اور ساتھ ہی ژالہ باری ہونے لگی۔ اس صورتحال نے ہمیں کافی حد تک دلبرداشتہ کر لیا۔ نا چاہتے ہوئے بھی ہم نے واپسی کی راہ لی۔ آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ آگے کیا تھا۔ موت تھی۔ موت کا سایہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا تھا۔ اوپر کی طرف سے لینڈ سلایڈنگ کا شدید خدشہ تھا۔ پتھر پھسل پھسل کر گر رہے تھے۔ ہم نے واپسی کو ہی غنیمت سمجھا۔ جھیل کنارے خیمے لگوائے۔ بارش رک چکی تھی۔ اس صورتحال نے ہمیں اتنا بے زار کیا کہ کچھ کھائے پئے بغیر ہم سرِ شام ہی خیموں میں لیٹ گئے۔ یہ نا ختم ہونے والی ایک بہت ہی لمبی اور ڈراؤنی رات تھی۔ اک خوف تھا اور وحشت تھی۔ کاٹے کٹتی نہیں شبِ ہجراں اور وہ شب آہ، مہدی حسن صاحب کی گائیکی کو شبِ ویراں سمجھ کر ہم رات کاٹتے رہے۔ رات کٹتی نہیں تھی بلکہ کاٹ کھانے کو آئی تھی۔ ہم نے کبھی اُٹھ کر، کبھی بیٹھ کر، جاگ کر، کبھی سو کر رات گزارلی۔ خدا خدا کر کے پہاڑ جیسی لمبی وہ رات بھی گزر گئی یا شاید ہم گزر گئے اور رات باقی رہی۔
قدرت آپ کی کیسے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگلے دن جب ہم نے اپنا سفر شروع کیا اور کھڑی دیوار کو پار کر کے جب ہم دو یا ڈھائی کلو میٹر گلیشیئر کو عبور کر رہے تھے، تب ہم نے سوچا کہ یہاں تو خیمہ لگوانے کے لیے اور رات بسر کرنے کے لیے کوئی جگہ تھی ہی نہیں۔ فرض کریں ہم کل یہاں آتے تو کیا گلیشیئر کے اوپر خیمہ لگوا کر رات بسر کر سکتے؟ بارش اور ژالہ باری قدرت کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ ہمیں آگے نہیں بڑھنا ہے۔
اگلی صبح خوشگوار تھی۔ موسم صاف تھا اور جھیل بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ پہاڑوں پر سورج کی کرنیں اپنے جلوے بکھیر رہی تھی اور جھیل کے پانیوں میں پہاڑوں کا عکس، آہ ایک سرمستی اور سر خوشی کی کیفیت ہم پر طاری کر گئی۔ ہم جھوم جھوم اٹھے۔ کچھ مناظر صرف آپ کے لیے تخلیق کئے جاتے ہیں۔ آپ چلے جاتے ہیں اور کوئی دوسرا آ جاتا ہے، مگر وہ ایک منظر جو آپ کی قسمت میں لکھا گیا تھا، آپ کے لئے تخلیق کیا گیا تھا، کسی اور کے قسمت میں کہاں۔
سردی بہت تھی۔ جھیل کے پانیوں میں وضو کرکے اور پھر نماز پڑھ کے ہم نے خیمے اُکھاڑے اور سیب کھا کر ہم سرشاری کے عالم میں اگلے جہاں کی تلاش میں روانہ ہوئے۔
آج ہمارے امتحان کا اصل دن تھا۔ آج کے ٹریک سے ہم ناواقف تھے۔ جھیل کے اوپر کیا ہے اور رستہ کیسا ہے۔ ہمیں کوئی علم نہیں تھا۔ بس گوگل میپ کی مدد سے ہم نے آگے کی طرف بڑھنا تھا۔ شیطان گوٹ جھیل اور گودر جھیل کے درمیان جو پاس تھا وہ آج تک کسی نے شاید کراس نہیں کیا تھا یا شاید کیا تھا اور ہم لاعلم تھے۔ شیطان گوٹ جھیل کے اوپری پہاڑی سے ایک آبشار بہہ کر جھیل کے پانیوں میں گر رہا تھا۔ اسی آبشار کے دائیں جانب ایک کھڑی دیوار جیسا راستہ تھا۔ ہم نے وہ راستہ بڑی مشکلوں سے عبور کیا۔ اب ہم جھیل کے اوپر اسی جگہ کھڑے تھے جہاں سے پانی آبشار کی صورت جھیل میں گر رہا تھا۔ یہاں شیطان گوٹ جھیل بڑا دلکش منظر دے رہا تھا۔ پوری جھیل یہاں سے دکھائی دے رہی تھی۔ بڑے بڑے پتھر تھے جس پر بیٹھ کر ہم تصاویر کھینچنے لگے۔ گلیشیئر پگھل کر اور اس کا پانی پتھروں میں سے راستہ بنا کر آبشار کی صورت جھیل میں گر رہا تھا۔ سامنے ایک اونچی پہاڑی دکھائی دے رہی تھی۔ ہمارے ٹریکر ساتھی سلیم خان واناخیل نے اس کا نام گودر یا گیدر پِیک بتایا اور مزید یہ بتایا کہ یہ سوات کے مغربی سلسلے کی سب سے اونچی پہاڑی چوٹی ہے اور اس کی بلندی 16200 فٹ یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ مشہور چمبرگھئی چوٹی سے گودر چوٹی کی بلندی زیادہ ہے۔
کچھ وقت شیطان گوٹ جھیل کے اوپری پاس پر گزار کر ہم آگے کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک گھنٹہ تک ہم چڑھائی چڑھتے رہے اور بالکل اوپری ٹاپ پر ہم پہنچ گئے۔ اب ہم 14922 فٹ بلندی پر پہنچ گئے تھے اور۔۔۔
اور اب ہمارے سامنے ایک طلسم کدہ موجود تھا۔
(جاری)

شیطان گوٹ۔گودر پاس اور گودر جھیل کی تمام روئداد اگلی نشست میں تصاویر کے ساتھ شئیر کرونگا اِن شا اللہ۔۔۔
Shetangutt Lake Kedam,
Swat Valley, P A K I S T A N













Written by Trekking Swat Valley

This page is to promote tourism in Swat valley. We will post images of beautiful explored and unexplored places of the Swat valley, KPK, P A K I S T A N

What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Comments

Leave a Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

0

Comments

comments

Khyber Pakhtunkhwa Police salutes its Immortal Martyrs IGP Safwat Ghayur Shaheed. Sir, You may be

مانکیال کی خوبصورت چوٹی کا منظر۔ The 18,541 feet (asl.) high Mankial Peak. The p…