in

Photos & Caption – Hussain Ali Team: Trekking Swat Valley مرغزاروں میں بیتے کچھ…

Photos & Caption – Hussain Ali
Team: Trekking Swat Valley

مرغزاروں میں بیتے کچھ لمحے اور محفلِ یاراں۔۔۔

کہانی کالام بازار سے شروع ہوتی ہے جب صبح دس بجے کے لگ بھگ ابراہیم کوہی سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ کچھ ضروری خریداری کے بعد چائے پانی کرکے بھویوں کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔ چند ساتھی پہلے سے بھویوں میں ہمارے منتظر ہیں۔ ہلکی بارش ہے اور خوبصورت گھنے جنگل میں اوپر کی طرف جاتی سڑک پر ہم دونوں دوست ہاتھ میں ہاتھ دئیے باتیں کرتے رواں ہیں موسم میں خنکی ہے اوپر سے بارش اور کیچڑ۔ ہمیں جلد دیگر ساتھیوں تک پہنچنا ہے۔ ایسے میں ایک گاڑی آتی ہے سیمنٹ اور باجری سے بھری۔ ہم بھویوں گاؤں تک اس سوزوکی پک اپ میں جاتے ہیں۔ بھویوں سے ذرا آگے گھنے جنگل میں گرا ہوا ایک خوبصورت گھاس پھوس کا چھوٹا سا ایک میدان ہے۔ وہاں دیگر ساتھی آگ کا الاؤ روشن کئے اس کے گرد بیٹھے خوب گپوں میں مگن ہیں۔ بارش کافی تیز ہوچکی ہے۔ ہم بھی ان میں شامل ہوجاتے ہیں اور الاؤ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا لگ جاتا ہے۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلتا ہے اور ساتھ میں محفلِ رنگ و جمال ☺️☺️
رباب کا تار چیڑ دیا جاتا ہے۔ علاقائی گیت اور کچھ من چلوں کا ناگن کے سروں پر ناچ۔ ہلہ گلہ اور بارش اور گیت سنگیت اور جنگل بیاباں اور ہم۔ ایک سرور مستی کی کیفیت میں گرفتار ہم یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ابھی ہم نے آگے بھی جانا ہے۔ کچھ لمحے بتا کر ہم آگے کے لیے روانہ ہوجاتے ہیں۔ ایک مسلسل چڑھائی کی صورت میں ہمارا سفر جاری ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ بارش کی وجہ سے کیچڑ ہی کیچڑ ہے۔ آپ قدم رکھتے ہیں اور پھسل جاتے ہیں۔ بہر صورت سفر جاری رہتا ہے اور تین گھنٹے کی مسلسل چڑھائی چڑھ کر ہم بیشئی پہنچ جاتے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایک کہر آلود شام میں آپ کو اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ بادل کے آوارہ ٹکڑے آپ کو اپنی حصار میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ آپ اگر فوٹوگرافی کا شوق رکھتے ہیں تو ایسا موسم آپ کے لیے موزوں نہیں ہے شاید یا شاید کسی فوٹوگرافر کے لیے کوئی بھی موسم ہو، پیارا ہی ہوتا ہے۔ کیمرا لے کر ابراہیم بھائی کے ساتھ نکل پڑتا ہوں۔ مانکیال پہاڑ کھبی بادلوں میں چھپ جاتا ہے کبھی جلوہ گر ہوتا ہے۔ آپ ایک زاویے سےچوٹی کو فوکس کرتے ہیں اور تصویر کھیچنے لگتے ہیں اور بادل سامنے آ آ کر آپ کو تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اس ملکوتی حسن کو، جیسا ہے ویسے ہی رہنے دو۔ کیمرے اور مانکیال چوٹی کے درمیان بادلوں کی یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ چند ساعتِ باسعادت گزار کر ہم واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ شام گہری ہوجاتی ہے۔

ایک خیمہ بستی آباد ہے۔ کھانا تیار کیا جارہا ہے۔ گہرا سناٹا اور بارش اور ساتھ میں گرج چمک۔ ایک طوفانی رات ہے یہ۔ کھانا کھا کر تمام روشنیاں گل کردی جاتی ہیں۔
میرے لئے یہ ایک حسین رات ہے۔ مجھے ایسے ہی راتوں میں، جبکہ گرج چمک اور بارش ہو اور ساتھ میں ژالہ باری بھی ہو، سکون ملتا ہے۔ رات نہایت سکون سے گزرتی ہے اور وہ صبح میری زندگی کی حسین ترین صبح ہوتی ہے۔ ابھی سورج نہیں نکلا ہے۔ آسمان میں بادل تیر رہے ہیں۔ بارش رک چکی ہے۔ مطلع ابرآلود ہے۔ ہمارا جو پروگرام بنا تھا، موسم کی خرابی کے باعث اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ پروگام یہ بنا تھا کہ مانکیال پہاڑی کے دامن میں پہنچ کر جتنا ہوسکا اوپر چڑھیں گے پہاڑی پر۔ مگر اب یہ ممکن نہیں تھا۔
تھوڑی دیر بعد سورج ایک شفیق چہرہ لیےابھرتا ہے۔ ناشتہ تیار کیا جاتا ہے۔ چائے ناشتہ کرکے مانکیال کی گود میں اترتے ہیں اور جیسے ماں کی گود میں پہنچ کر بچہ پرسکون ہوتا چلا جاتاہے، مانکیال کی آغوش میں چل کر مجھے وہی سکون ملتا ہے۔ دوپہر کے کھانے تک ہم وہاں وقت گزارکر واپس آتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا کھا کر میں واپسی کا فیصلہ کرتا ہوں تو ابراہیم بھائی نہایت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ پروگرام یہ بنا تھا کہ اگلی رات جگ بانال میں گزار کر واپسی ہوگی۔میں جانے کے لئے بضد رہا اور وہ مجھے روکنے پر۔ آخر اس نے فیصلہ سنادیا کہ جائیں گے تو سب یا کوئی نہیں جائے گا۔ بڑی مشکلوں سے ان سے اجازت لے کر واپسی کی راہ لیتا ہوں۔

یہاں ان تمام دوستوں کا میں خصوصاً شکریہ ادا کرونگا جو میرے ہم سفر رہے۔ جن کا رویہ بھائیوں سے بڑھ کر تھا اور جن کے ہاتھ کے مزیدار کھانے کھا کھا کر اور چائے پی پی کر یہ سفر اور بھی خوب گزرا۔ ان کی روایتی مہمان نوازی نے مجھے بہت متاثر کیا۔













Written by Trekking Swat Valley

This page is to promote tourism in Swat valley. We will post images of beautiful explored and unexplored places of the Swat valley, KPK, P A K I S T A N

What do you think?

122 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

Comments

Leave a Reply
  1. قربان جاؤ… دل کرتا ہے کہ بہت تعریف کرو…لیکن کیا کرو تعریف کرو تصویر کی یا تحریر کی…
    بہت خوب…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

Comments

comments